پاکستان کےبغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا،ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر  میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ مشکل فیز تھا ضرب عضب شروع کر کے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہم نے اپنی طرف امن کر لیا، افغانستان کو بھی امن کرنا ہوگا فاٹا کی 7ایجنسیوں میں طالبان کا اثر و رسوخ تھا ، شمالی وزیرستان کے آپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس کی گئی انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف تمام  آپریشن مختلف تھے سوات آپریشن مختلف تھا، وہاں آبادی ہے ایساف کے ساتھ ہماری بہت اچھی کو آرڈینیشن تھی افغانستان بارڈ مینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویز بھیجے ہیں اگر مکینزم طے پاگیا توبارڈر کے بہت سےمسائل حل ہوجائیں گے جسمانی طورپر جنگ ختم ہو گئی، موجودہ مرحلہ مشکل ہے پائیدار امن کیلیے اقدامات کرنے ہونگے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کیلیے کچھ اقدام پاکستان اور کچھ افغانستان کو کرنے ہونگے پاکستان امن کی طرف جارہاہے 2017 میں بھارت کی سیز فائر کی خلاف ورزیاں بقیہ تمام سال سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا امریکی صدر کے بیان سے متعلق حکومت پاکستان بیان دے چکی ہے ۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ ایک ان دیکھے دشمن کے خلاف ہے آنے والے سال میں بارڈر مینجمنٹ کرلی جائے تو بہت بہتری آ جائے گی کلبھوشن کا کیس بھی سامنے ہے کہ کیسے اس نے عدم استحکام کی کوشش کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے  میں بھارت کا کردار ہے۔

شیئر کریں: