ناول کیسے لکھا جائے؟

ناول لکھنا اِس دنیا کے بنائے گئے سماج کے خلاف ایک جدوجہد ہے۔ یہ ‘حقیقت’ کے خلاف ایک لڑائی ہے جسے ہر سطح پر جیتنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی متبادل دنیا بنائی جاسکے جو کہ ناول دکھانا چاہتا ہے۔

دنیا چاہتی ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ ناول تجربات شیئر کرنے سے لکھے جاتے ہیں۔ اِس سے زیادہ بڑا جھوٹ کچھ نہیں ہوسکتا۔ ناولز تنہائیوں سے اُبھرتے ہیں جہاں ذہن کی قوت کو ایسی متبادل دنیا تیار کرنے کے لیے بنایا جاسکتا ہے جو اپنی منطق کے معیار پر پوری اترتی ہے، زندہ ہے اور جیتی جاگتی ہے کیوں کہ وہ ‘حقیقت’ کی حدود میں قید نہیں ہوتی۔

ناول لکھاری کو ہمہ وقت ایک نئی شخصیت کی تیاری میں مصروفِ عمل رہنا چاہیے، یعنی ناول لکھاری کی شخصیت، تاکہ وہ بیرونی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ ناول لکھنے کے لیے جن تین اہم باتوں کو یاد رکھنا چاہیے، وہ یہ ہے:

  • تحریر ’لکھنے‘ سے آتی ہے، ’زندگی‘ سے نہیں؛ اِس لیے انسان کو اپنی زندگی بھلا کر دوسروں کی تحریروں کو قبول کرنا چاہیے۔

  • تخیل اپنے آپ میں کافی ہے؛ اِس لیے اِس سے متصادم تمام چیزوں کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔

  • تخیل صرف تنہائی میں پروان چڑھتا ہے، اِس لیے ایک لکھاری کو لوگوں سے الگ رہنے کے لیے اپنی شخصیت خود بارآور کروانی چاہیے۔

میرے تینوں نکات شاید سننے میں ایک سے لگیں، اِس لیے بنیادی نکتہ ایک ہی ہے؛ ناول لکھنا ایک اندرونی عمل ہے لہٰذا تمام بیرونی عوامل کو دور رکھنا ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ جو کچھ دوسروں کی تحریروں سے سیکھتے ہیں، اُسے اپنے اندر سمو کر اپنا بنانا ہوتا ہے، گرم پانی کی طرح جو بیرونی ‘نان سینس’ کو دھو ڈالے۔

ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ حقیقت وہیں موجود ہوتی ہے جسے عام طور پر لوگ غیر حقیقت کہتے ہیں: کتابوں میں موجود تخیلات، آرٹ، میوزک اور تخلیق کا ہر ذریعہ۔ عام تعلقات خامیوں سے بھرپور ہوتے ہیں جس سے ناول لکھنا ناممکن بن جاتا ہے یا اُس کی طاقت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

جب ہم ایک متبادل دنیا میں جا پہنچتے ہیں تو ہم لکھاری کی صلاحیتوں کو داد دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے سامنے آنے والی اُن لاتعداد اور بے رحم چیزوں سے نمٹتے ہوئے ناول لکھنے میں کامیاب رہا جو اُس کی توجہ ہٹا سکتی تھیں۔ ہم لکھاری کو عزت دیتے ہیں کہ اُس کے اندر اپنے تخیل کی گہرائی میں اترنے کی مافوق البشر صلاحیت ہے، تاکہ ہمارے لیے ایسی متبادل دنیا بنائی جاسکے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، بجائے اُس دنیا کے جو ہمارے سامنے تو موجود ہے مگر اُس پر کوئی بھی بھروسہ نہیں کرسکتا۔

ہمیں اُس نکتے تک پہنچنا چاہیے جہاں کسی اور کی تحریر میں موجود حقیقت ہمارے سامنے موجود حقیقت سے زیادہ وزن رکھتی ہو۔ پھر کہوں گا کہ تحریر لکھنے سے آتی ہے، نہ کہ اُس چیز سے جسے ہم غلطی سے زندگی کہتے ہیں۔ جن ناولوں کی ہم تعریف کرتے ہیں وہ خالص روح کا مظہر ہیں، خالص لفظوں میں اظہار کہ دنیا کیسی ہونی چاہیے، یہاں تک کہ جب اُن ناولوں کا مواد تنقیدی یا مایوس کن ہو، تب بھی۔ جیسا کہ لوئی فرڈینینڈ سیلائن یا ہینری ملر نے کہا تھا، ناول ‘نفی’ ہیں، اور ایک لکھاری تب تک ناول تخلیق نہیں کرسکتا، تب تک ایک متبادل دنیا تخلیق نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ دنیا کو جیسے کا تیسا قبول کرنے میں مصروف رہے۔

پھر عظیم محبت کہاں جائے گی؟ کیا یہ ہم میں سے ایک عنصر نکال نہیں دیتی؟ مگر رومانوی محبت خود بھی ایک استعارہ ہے جو کہ زیادہ تر تحریر سے نکلتا ہے۔ تحریر مایوس کن لمحات میں بھی حقیقی دنیا کے حصوں پر قبضہ جما کر انسانی امید جگائے رکھتی ہے، جیسا کہ مطلق العنان حکومتوں کے درمیان۔ بدقسمتی سے محبت، اپنے روایتی استعاروں کے مطابق، باقی نہیں رہتی۔ اِس کے علاوہ یہ ایک ثانوی حیثیت کا اثر ہے، کیوں کہ یہ حقیقی دنیا میں دوسرے کے تخیل سے جنم لیتا ہے۔

بلند پایہ لکھاریوں کے پاس گائیڈ کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، یا شاید اُن کا ایک گروپ ہوتا ہے۔ جب ایک شخص ہائی وے پر تھک جاتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت، تو وہ جہاں تک ہوسکے اٹھارہ پہیوں والے ٹرالر کا پیچھا کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ میں نے جب پہلی بار ڈرائیونگ سیکھی تھی تو ایک دفعہ میں نے ایک ٹرک کا کیلیفورنیا میں برکلی سے لے کر لاس اینجلس تک پیچھا کیا تھا، یہاں تک کہ میری گاڑی میں ایندھن ختم ہوگیا تھا۔ میں فی الوقت جو ناول لکھ رہا ہوں، اُس کے لیے میں نے گونتر گراس کے ناول ‘دی ٹن ڈرم’ سے لفٹ لی، اور تقریباً ایک ماہ میں اُسے ختم کرنے کے بعد میرے پاس تعریف کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

ناول لکھاری ایک ترکیب جو اکثر آزماتے ہیں، میں بھی ضرور کرتا ہوں، وہ ہے زبردست رفتار سے لکھنا۔ اِس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کا شعور کہیں آپ کے تخیل پر بازی نہ لے جائے۔ انسان روزانہ کے کم از کم الفاظ کی حدود کے ساتھ اتنی تیزی سے لکھتا ہے کہ وہ تخیل کے بلبلے سے باہر نہیں نکلتا۔

تخیل تب پروان چڑھتا ہے جب انسان اُس مقدس علاقے میں داخل ہو جہاں کرداروں کی قسمتیں لکھاری کے ہاتھ میں ہوں۔ جب میں خود کو دنیا سے کاٹ لوں اور ناول کے بعد ناول پڑھے جا رہا ہوں جو مجھے خالص روح کی دنیا تک لے جا رہے ہیں، تو ہوسکتا ہے کہ اچانک کچھ ایسے روشن خیالات آئیں، جیسے میرے کرداروں کے ساتھ آگے کیا ہونا ہے یا کیا کرنا چاہیے، لیکن اگر میں خود کے ساتھ زبردستی کروں تو یہ نہیں ہوگا۔

کہانی کے خدوخال ناول لکھاری کو خود ہی حاصل ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک تقریباً روحانی تجربہ ہے، جیسے جب انسان خود کو رشتوں کی پیچیدگیوں، ضرورت سے زیادہ پیسہ کمانے کے جھنجھٹ اور بچوں کی خواہشات کے ملبے سے صاف کرلے تو ناول لکھاری کو وہ شفاف خیالات آنے شروع ہوجاتے ہیں کہ جیسے اُس سے اُس کا تخیل یہ کہہ رہا ہو کہ، فلاں کردار یہ کرے گا یا وہ کرے گا، یہاں تک کہ ناول ختم ہوجاتا ہے۔

اب سوچیں کہ کیا ہوتا ہے جب انسان لکھاری بننے کے خواہشمند لوگوں کے ساتھ ورکشاپوں میں بیٹھ کر اپنے تخیل کو اُس چیز کے تابع کرتا ہے جسے ‘کمیونٹی’ کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ ہی نہایت مایوس کن ہے اور تصور کریں کہ اگر انسان سال میں دس، سو، یا ہزار کتابیں پڑھے تو وہ کس طرح کا ناول لکھے گا؟

سب سے بُری خواہش یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت جیسی ہے، ویسے ہی کتاب میں لکھ دے، بجائے اِس سے آگے بڑھنے کر، کیوں کہ لوگ اکثر دوسرے ناولوں پر بھروسہ نہیں کرتے، کیوں کہ اُنہیں لگتا ہے کہ جس ٹرک کا وہ پیچھا کر رہے ہیں وہ کہیں تصادم کا شکار نہ ہوجائے۔ مگر ناول لکھاری نہ ہی کوئی اٹھارہ سال کا ہے اور نہ ہی ہائی وے کا تھکا ہوا ڈرائیور، بلکہ اُس کی فکر کہیں زیادہ بلند ہے۔ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے جو شعوری طور پر روزانہ دوسروں کے تخیل میں ڈوب کر ڈیسک پر بیٹھنے کا نام ہے، اپنے قابو سے آگے آواز سننے کے لیے تیار ہوکر۔

ایک ناول نگار قوم پرست، انتہاپسند یا گھریلو آدمی نہیں ہوسکتا (جانور مختلف ہیں کیوں کہ خالص تخیل کی دنیا میں رہتے ہیں)؛ ایک ناول نگار کو خود کو بیرونی دنیا کے حقائق پر یقین سے جنم لینے والی کشمکشوں سے آزاد کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے جو ہمیشہ ہی غیر حقیقی ہوتی ہیں۔

شیئر کریں: