معذور افراد کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے۔یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر میں معذور افراد کو زندگی کے ہر دھارےمیں شامل کرنا ہے۔یہ دن معذور افراد کو انکے حقوق سے آگاہی فراہم کرنے کےلیے منایا جاتا ہے ۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر10 میں سے 1 شخص معذور ہے ۔ ترقی پذیر ممالک میں معذور افراد اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

عالمی ادارہٗ صحت کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں 60کروڑ افراد جسمانی طور پر معذور ہیں۔جن میں سے 80فیصد کا تعلق ترقی پذیرممالک سے ہے۔ پاکستان کی سرکاری ملازمتوں کا 3 فیصد کوٹا معذور افراد کے لیے مختص کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔

وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے خصوصی افرادکےحقوق کےعالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس دن کامقصدخصوصی افرادکی تکالیف سےمتعلق آگاہی پیداکرناہے۔ خصوصی افرادکی بہتری کےلیےکام کرناہماری ذمہ داری ہے۔ حکومت خصوصی افرادکی بہتری اوران کےمسائل کےحل کےلیےپرعزم ہے۔خصوصی افرادکوباوقارمقام دلانےکےلیےہرطبقےکواپناکرداراداکرناہے۔

وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب خصوصی بچوں کی طرف سےپیش کردہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معذورافرادکی فلاح وبہبودکےلیےمزیداقدامات کررہےہیں۔ مضبوط عزم اوربلندحوصلےسےمعذوری پرقابوپایاجاسکتاہے۔ معذوری کا دکھ صرف معذورافرادیاانکےاہلخانہ محسوس کرسکتےہیں۔

اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں مختلف سرکاری و نیم سرکاری تنظیموں کے زیراہتمام سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیاجاتاہے۔ جن میں لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ معذور افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مثبت کوششیں کریں۔

واضح رہے کہ معذوروں کا عالمی دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 14 اکتوبر 1992 کو منظور ہونے والی قرار داد نمبر47/3 کے تحت ہر سال3 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔

شیئر کریں: