زمین چپٹی ہوتی تو کیا ہوتا؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا ہوتا اگر دنیا ایک چپٹی پلیٹ کی مانند ہوتی؟

فی زمانہ اس بات سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ دنیا گول ہے۔ لیکن زمانہ قدیم میں کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جو سوچتے تھے کہ دنیا چپٹی ہے، جبکہ آج بھی کچھ بےعقل موجود ہیں جو اب بھی یہ سوچتے ہیں کہ دنیا چپٹی ہے۔

اگر ایک لمحے کو مان بھی لیں کہ دنیا چپٹی ہے تو صرف ایک چیز ہی اس بات کو غلط ثابت کردے گی، اور وہ ہے گریویٹی یعنی کشش ثقل۔

گریویٹی اس مقناطیسی قوت کو کہتے ہیں جو زمین کے مرکز میں پائی جاتی ہے اور دنیا کی تمام چیزوں کو واپس زمین کی طرف کھینچتی ہے۔

زمین کے گول ہونے کا مطلب ہے کہ گریویٹی تمام سمتوں سے ایک ساتھ اور ایک جیسی کام کرے گی۔

لیکن اگر زمین گول کے بجائے چپٹی ہوگی تو گریویٹی اس کے بیچ کے حصے کی طرف تمام چیزوں کوکھینچے گی۔

اگر اس وقت آپ امین کے بیچ کے حصے میں ہوں گے تو گریویٹی اسی طرح اثر کرے گی جس طرح گول زمین پر ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے آپ زمین کے مرکز سے دور ہوں گریویٹی کا اثر ٹیڑھا ہوتا جوئے اور آپ کو لگے گا کہ آپ کسی پہاڑی ہر چڑھ رہے ہیں۔

اگر آپ ایک گیند ہوا میں اچھالیں گے تو وہ آگے جانے کے بجائے پیچھے جائے گی۔ اسی طرح زمین کے بیچ میں اگنے والے درخت سیدھے اگیں گے جبکی مرکز سے دور اگنے والے درخوں کی اٹھان ٹیڑھی ہوگی۔

اسی طرح چپٹی زمین پر موجود سارا پانی زمین کے بیچ میں جمع ہوگا اور کنارے خشک رہ جائیں گے۔

تو اگر اگلی بار آپ کوئی سیب درخت سے گرتا دیکھیں تو شکر کریں کہ زمین گول ہے، کیونکہ اگر زمین چپٹی ہوتی تو یہی سیب زمین پر گرنے کے بجائے آپ کے منہ پر آکر لگتا۔

شیئر کریں: