تھیلیسیمیا کا عالمی دن: بلوچستان میں اس بیماری کی شرح سب سے زیادہ

آج دنیا بھر میں خون کی کمی یعنی ‘تھیلیسیمیا’ کا عالمی منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس مرض میں اضافے اور وجوہات کے بارے میں شعور کی بیداری ہے۔

تھیلسیمیا ایک ایسی جینیاتی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔

اس بیماری کے ذکر کے ساتھ ہی تصور میں بے بسی کی تصویر بننے لگتی ہے اور آنکھوں کے سامنے وہ بچے اور نوجوان آجاتے ہیں جن کی زندگی کا انحصار صرف اور صرف تازہ خون ملنے اور بہتر نگہداشت پر ہوتا ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو تو زندگی ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی اس بیماری کی صورتحال تشویشناک ہوتی جار ہی ہے۔

دارالحکومت کوئٹہ میں واقع بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال اور تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے سربراہ ہیماٹالوجی پروفیسر ڈاکٹر ندیم صمد شیخ نےجیو نیوز کو بتایا کہ ہمارے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں ہرسال تقریباً ایک ہزار بچے تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان بچوں میں کچھ تو رجسٹرڈ ہوجاتے ہیں مگر زیادہ تر رجسٹرڈ نہیں ہوپاتے اور گھروں میں ہی رہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں تھیلیسیمیا کےمرض کی شرح سب سےزیادہ ہے اور روز بروز ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے بلوچ اور پشتون قبائل میں یہ مرض زیادہ شدت سے سامنے آرہا ہے۔ بلوچ اکثریت علاقوں میں یہ شرح آٹھ اعشاریہ ایک ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ پشتون اکثریتی علاقوں میں یہ شرح پانچ اعشاریہ چھ فیصد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کی بیماری کی وجوہات میں اس جین کے حامل افراد کی لاعلمی کی بنا پر شادی کا ہونا ہے۔

ڈاکٹر ندیم صمد شیخ کے مطابق تھیلیسیمیا مائنر جین کے حامل دو افراد آپس میں شادی کرلیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والےکچھ بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہوسکتے ہیں، اس کا ایک بڑا سبب کزن میرج (خاندان میں شادی) کا تسلسل بھی ہے۔

شیئر کریں:

Facebook

Get the Facebook Likebox Slider Pro for WordPress